19 ستمبر، 2025، 11:57 PM

اسنیپ بیک میکانزم فعال کرنے کی کوشش غیر قانونی اور اشتعال انگیز ہے، ایران

اسنیپ بیک میکانزم فعال کرنے کی کوشش غیر قانونی اور اشتعال انگیز ہے، ایران

ایرانی وزارت خارجہ نے امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے اسنیپ بیک میکانزم فعال کرنے کوشش پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے تین یورپی ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی سابقہ پابندیوں کو دوبارہ عائد کرنے کی غیر قانونی کوشش پر شدید مذمت کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ممالک عالمی جوہری معاہدے کے تنازعہ حل کے میکانزم اور قرارداد 2231 کا غلط استعمال کرکے 2015 میں ختم کی گئی سکیورٹی کونسل کی پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ اقدام غیر قانونی، غیر معقول اور اشتعال انگیز ہے۔

وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ قرارداد 2231، جو جوہری معاہدے کا لازمی حصہ ہے، ایران کے پرامن جوہری پروگرام کی تصدیق کرتی ہے اور جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے جھوٹے الزامات کو رد کرتی ہے۔ اس کے تحت 2006 سے 2009 کے درمیان ایران پر عائد تمام سکیورٹی کونسل کی پابندیاں ختم ہو چکی ہیں اور ایرانی جوہری مسئلہ ستمبر 2025 میں کونسل کے ایجنڈے سے خارج ہوجائے گا۔

ایران نے بیان میں زور دیا کہ تین یورپی ممالک کی یہ تباہ کن کوشش ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب ایران کے محفوظ جوہری مراکز پر صہیونی اور امریکی حملے ہوئے، جو نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ان حملوں سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو بھی خطرہ پیدا ہوا ہے۔ یورپی ممالک نہ صرف ان حملوں کی مذمت کرنے میں ناکام رہے بلکہ اسنیپ بیک میکانزم کے غلط استعمال کے ذریعے ایک اور غیر قانونی اقدام کر رہے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یورپی ممالک نے 9 ستمبر 2025 کو ایران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے درمیان طے شدہ معاہدے کو بھی نظر انداز کیا، جبکہ ان کا بنیادی جواز ایران کی جانب سے تعاون میں مبینہ کمی تھا۔ ایران نے ان کی غیر معقول بنیادوں پر پیش کی گئی تجاویز کو بھی مسترد کر دیا ہے، کیونکہ ان کی اصل کوشش اپنے سیاسی مفادات کو آگے بڑھانا تھا۔

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران ہمیشہ سفارتکاری اور گفت و شنید کے راستے کھلے رکھنے کا خواہاں رہا ہے، لیکن یہ ممالک امریکہ کی یکطرفہ اور غیر قانونی پالیسیوں کی پیروی کرتے ہوئے معقول پوزیشن ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر یہ اقدام سکیورٹی کونسل کی سابقہ پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کا سبب بنتا ہے تو اس کے تمام نتائج کی ذمہ داری امریکہ اور تین یورپی ممالک پر ہوگی، جنہوں نے حقائق کو مسخ کر کے بے بنیاد پر الزامات عائد کیے اور بعض غیر مستقل کونسل اراکین پر دباؤ ڈال کر اپنا حامی بنایا۔

ایران نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ تین یورپی ممالک کی اس غیر قانونی کوشش کو مسترد کریں اور اسے کوئی جواز نہ دیں۔ ایران نے زور دیا کہ اس کا پرامن جوہری پروگرام ایرانی عوام کی ترقی اور سائنس و ٹیکنالوجی کی پیشرفت پر مبنی ہے اور ایران اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر جائز اقدام کرنے کا حق رکھتا ہے۔

News ID 1935446

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha